(Bang-e-Dra-163) (طلوع اسلام) Tulu-e-Islam

طلوع اسلام دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا،گیا دور گراں خوابی عروق مردئہ مشرق میں خون زندگی دوڑا سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی عطا مومن کو پھر درگاہ... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-162) (خضر راہ – جواب خضر ) Khizar-e-Rah – Jawab-e-Khizar

خضرراہ شاعر ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر گوشہ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب سکوت افزا: خاموشی کو بڑھانے والی۔ جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار موج مضطر تھی کہیں... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-161) (ہمایوں – مسٹر جسٹس شاہ دین مرحوم) Humayon (Mr. Justice Shah Deen Marhoom)

ہمایوں (مسٹر جسٹسں شاہ دین مرحوم) اے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھی تیری چنگاری چراغ انجمن افروز تھی گرچہ تھا تیرا تن خاکی نزار و دردمند تھی ستارے کی طرح روشن تری طبع بلند کس قدر بے باک دل اس ناتواں پیکر میں تھا شعلہ گردوں نورد اک مشت خاکستر میں تھا موت کی... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-160) (دریوزہ خلافت) Daryuza’ay Khilafat

دریوزہ خلافت اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا خلافت کی کرنے لگا تو گدائی خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی مرا از شکستن چناں عار ناید کہ از دیگراں خواستن مومیائی... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-159) (اسیری) Aseeri

اسیری ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند قطرئہ نیساں ہے زندان صدف سے ارجمند مشک اذفر چیز کیا ہے، اک لہو کی بوند ہے مشک بن جاتی ہے ہو کر نافہ آہو میں بند ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت، مگر کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام وقفس سے بہرہ مند... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-158) (میں اور تو) Mein Aur Tu

میں اورتو نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا میں ہلاک جادوئے سامری، تو قتیل شیوئہ آزری میں نوائے سوختہ در گلو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بو میں حکایت غم آرزو، تو حدیث ماتم دلبری در گلو: حلق میں اٹکی ہوئی۔ مرا عیش غم،مرا شہد سم، مری بود ہم نفس... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-157) (شکسپیر) Shakespeare

شیکسپیر شفق صبح کو دریا کا خرام آئینہ نغمہ شام کو خاموشی شام آئینہ برگ گل آئنہ عارض زبیائے بہار شاہد مے کے لیے حجلہ جام آئینہ حجلہ جام: پیالے کی جلوہ گاہ۔ حسن آئنہ حق اور دل آئنہ حسن دل انساں کو ترا حسن کلام آئینہ ہے ترے فکر فلک رس سے کمال ہستی... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-156) (پھول) Phool

پھول تجھے کیوں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کی تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کرلے صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گل بھی ہے انھی پابندیوں میں حاصل... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-155) (شب معراج) Shab-e-Miraj

شب معراج اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرش بریں کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

(Bang-e-Dra-154) (پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ) Pewasta Reh Shajar Se, Umeed-e-Bahar Rakh

پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ ڈالی گئی جو فصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ ممکن نہیں ہری ہو سحاب بہار سے ہے لازوال عہد خزاں اس کے واسطے کچھ واسطہ نہیں ہے اسے برگ و بار سے ہے تیرے گلستاں میں بھی فصل خزاں کا دور خالی ہے جیب گل زر کامل عیار... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑