(Bal-e-Jibril-179) (قطعہ – کل اپنے مریدوں سے کہا پیر مغان نے) Qataa – Kal Apne Mureedon Se Kaha Peer-e-Mughan Ne

قطعہ کل اپنے مریدوں سے کہا پیر مغاں نے قیمت میں یہ معنی ہے درناب سے دہ چند زہراب ہے اس قوم کے حق میں مےء افرنگ جس قوم کے بچے نہیں خوددار و ہنرمند

(Bal-e-Jibril-176) (شیر اور خچر) Sher Aur Khachar

شیر اور خچر شیر ساکنان دشت و صحرا میں ہے تو سب سے الگ کون ہیں تیرے اب و جد، کس قبیلے سے ہے تو؟ خچر میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور وہ صبا رفتار، شاہی اصطبل کی آبرو

(Bal-e-Jibril-175) (آزادی افکار) Azadi-e-Afkar

آزادی افکار جو دونی فطرت سے نہیں لائق پرواز اس مرغک بیچارہ کا انجام ہے افتاد مرغک: پرندہ۔ دوني فطرت: فطرت کی پستی۔ ہر سینہ نشیمن نہیں جبریل امیں کا ہر فکر نہیں طائر فردوس کا صےاد طائر فردوس: جنت کا پرندہ۔ اس قوم میں ہے شوخی اندیشہ خطرناک جس قوم کے افراد ہوں ہر... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-174) (یورپ) Yorup

یورپ تاک میں بیٹھے ہیں مدت سے یہودی سودخوار جن کی روباہی کے آگے ہیچ ہے زور پلنگ خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح دیکھیے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ (ماخوذاز نطشہ) روباہي: لومڑی جیسی خصلت، یعنی چالاکی۔ پلنگ: چیتا۔

(Bal-e-Jibril-171) (باغی مرید) Baghi Mureed

باغی مرید ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ مانند بتاں پجتے ہیں کعبے کے برہمن کعبے کے برہمن: مراد ہے خاندانی پیر زادے مخدوم۔ نذرانہ نہیں، سود ہے پیران حرم کا ہر خرقہء سالوس کے اندر... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-170) (شاہین) Shaheen

شاہیں کیا میں نے اس خاک داں سے کنارا جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ نہ باد بہاری، نہ گلچیں، نہ بلبل نہ بیماری نغمہ عاشقانہ خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ ہوائے بیاباں... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑