(Zarb-e-Kaleem-195) (وہی جوان ہے قبیلے کی آنکہ کا تارا) Wohi Jawan Hai Qabile Ki Ankh Ka Tara

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری اگر ہو جنگ تو شیران غاب سے بڑھ کر اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاری غاب: جنگل۔ رعنا: دل کو موہ لینے والا خوبصورت ۔ عجب نہیں ہے اگر... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-194) (عشق طنیت میں فرو مایہ نہیں مثل ہوس) Ishq Tiniat Mein Firo Maya Nahin Misal-e-Hawas

عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثل ہوس پر شہباز سے ممکن نہیں پرواز مگس مگس: مکھی۔ یوں بھی دستور گلستاں کو بدل سکتے ہیں کہ نشیمن ہو عنادل پہ گراں مثل قفس عنادل: عندلیب (بلبل) کی جمع۔ سفر آمادہ نہیں منتظر بانگ رحیل ہے کہاں قافلہ موج کو... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-193) (زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر) Zagh Kehta Hai Nahayat Badnuma Hain Tere Per

زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر زاغ کہتا ہے نہایت بدنما ہیں تیرے پر شپرک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہنر شپرک: چمگادڑ۔ زاغ: کوّا۔ کور چشم: اندھا پن۔ لیکن اے شہباز! یہ مرغان صحرا کے اچھوت ہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خم سے بے خبر ان کو کیا... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-192) (رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندوستان) Rumi Badle, Shami Badle, Badla Hindustan

رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندستان رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندستان تو بھی اے فرزند کہستاں! اپنی خودی پہچان اپنی خودی پہچان او غافل افغان موسم اچھا، پانی وافر، مٹی بھی زرخیز جس نے اپنا کھیت نہ سینچا، وہ کیسا دہقان اپنی خودی پہچان او غافل افغان اونچی جس کی لہر نہیں ہے، وہ... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-191) (جوعالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد) Jo Alam-e-Ejad Mein Hai Sahib-e-Ejad

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ عالم ایجاد: دنیا۔ تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ تقلید: پیروی کرنا ۔ اس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک! ہے... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-190) (یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغاۓ روارو) Ye Madrasa Ye Khail Ye Ghogha’ay Rawa Ro

یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو یہ مدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارو اس عیش فراواں میں ہے ہر لحظہ غم نو وہ علم نہیں، زہر ہے احرار کے حق میں جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو دو کف جو: دو مٹھی جو۔ ناداں ! ادب و فلسفہ کچھ چیز... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-189) (کیا چرخ کج رو ، کیا مہر، کیا ماہ) Kya Charkh-e-Kaj Ro, Kya Mehar, Kya Mah

کیا چرخ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ کیا چرخ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ سب راہرو ہیں واماندہ راہ چرخ کج رو: ٹیڑھا چلنے والا آسمان۔ واماندہ راہ: تھکا ہارا کڑکا سکندر بجلی کی مانند تجھ کو خبر ہے اے مرگ ناگاہ نادر نے لوٹی دلی کی دولت اک ضرب شمشیر، افسانہ کوتاہ... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-188) (تیری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی) Teri Dua Se Qaza Tou Badal Nahin Sakti

تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی تری دعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے تقدیر۔ قضا تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا عجب نہیں ہے کہ یہ چار سو بدل جائے وہی شراب، وہی ہاے و ہو رہے باقی طریق ساقی و... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-187) (حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام) Haqiqat-e-Azali Hai Raqabat-e-Aqwam

حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام حقیقت ازلی ہے رقابت اقوام نگاہ پیر فلک میں نہ میں عزیز، نہ تو خودی میں ڈوب، زمانے سے نا امید نہ ہو کہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمام رفو رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا اتر گیا جو ترے دل میں لاشریک لہ یگانہ و... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-186) (میرے کوہستان تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں) Mere Kohistan ! Tujhe Chor Ke Jaun Kahan

میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاوں کہاں میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاوں کہاں تیری چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک اب و جد: آبا و اجداد۔ MEDITATIONS OF MIHRAB GUL AFGHAN How can I quit this mountain land, where my sires are interred in rocks; my exile from this land so dear, is full of anguish, pain and shocks?

Blog at WordPress.com.

Up ↑