(Armaghan-e-Hijaz-43) (حضرت انسان) Hazrat-e-Insan

حضرت انسان جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی کوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانی کوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانی یہ دنیا دعوت دیدار ہے فرزند آدم کو کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوق عریانی... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-42) (حسین احمد) Hussain Ahmad

حسین احمد عجم ہنوز نداند رموز دیں، ورنہ ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است ملک عرب سے باہر کا علاقہ ابھی تک دین اسلام کی حقیقی رمز کو نہیں پا سکا، اگر پا چکا ہوتا تو دیوبند کے اسلامی مدرسہ کے حسین احمد مدنی یہ تعجب کی بات نہ کرتے کہ ملّت کا... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-41) (سر اکبر حیدری، صدر اعظم حیدرآباد دکن کے نام) Sir Akbar Haideri, Sadar-e-Azam Haiderabad Daccan Ke Naam

سر اکبر حیدری، صدراعظم حیدرآباد دکن کے نام 'یوم اقبال' کے موقع پر توشہ خانہ حضور نظام کی طرف سے، جو صاحب صدراعظم کے ماتحت ہے ایک ہزار روپے کا چیک بطور تواضع وصول ہونے پر تھا یہ اللہ کا فرماں کہ شکوہ پرویز دو قلندر کو کہ ہیں اس میں ملوکانہ صفات مجھ سے... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-40) (غریب شہر ہوں میں، سن تو لے میری فریاد) Ghareeb-e-Shehar Hun Mein, Sun To Le Meri Faryad

غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد غریب شہر ہوں میں، سن تو لے مری فریاد کہ تیرے سینے میں بھی ہوں قیامتیں آباد مری نوائے غم آلود ہے متاع عزیز جہاں میں عام نہیں دولت دل ناشاد نوائے غم آلود: غم سے بھری آواز۔ دل ناشاد: غمزدہ دل۔ متاع عزیز: قیمتی دولت۔... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-37) (حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیان کی) Hajat Nahin Ae Khita’ay Gul Sharah-o-Bayan Ki

حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیاں کی حاجت نہیں اے خطہ گل شرح و بیاں کی تصویر ہمارے دل پر خوں کی ہے للہ خطہ گل: پھولوں کا علاقہ۔ تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا دیتے ہیں یہ پیغام خدایان ہمالہ مکافات عمل: عمل کا بدلہ۔ ہمالیہ کا آقا۔ خدایان ہمالہ: سرما... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-36) (ضمیر مغرب ہے تاجرانہ ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ) (Zameer-e-Maghrib Hai Tajirana, Zameer-e-Mashriq Hai Rahibana

ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ ضمیر مغرب ہے تاجرانہ، ضمیر مشرق ہے راہبانہ وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ کنار دریا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز محرمانہ سکندری ہو، قلندری ہو، یہ سب طریقے ہیں ساحرانہ بہ انداز محرمانہ: دوستانہ طریقے سے۔ ساحرانہ: جادوگری انداز۔ حریف اپنا... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-35) (چہ کافرانہ قمارحیات می بازی) Che Kafirana Qimar-e-Hayat Mee Bazi

چہ کافرانہ قمار حیات می بازی چہ کافرانہ قمار حیات می بازی کہ با زمانہ بسازی بخود نمی سازی (اے مسلمان ) تو زندگی کا جوا کس کافرانہ انداز میں کھیل رہا ہے؛ تو زمانے کے ساتھ تو بنا رہا ہے لیکن اپنے ساتھ بنا کے نہیں رکھتا۔ دگر بمدرسہ ہائے حرم نمی بینم دل... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-34) (نشان یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا) Nishan Yehi Hai Zamane Mein Zinda Qaumon Ka

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کی معاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں کمال صدق و مروت: سچائی اور حسن سلوک کی انتہا۔ تقصیریں: غلطیاں، کوتاہیاں۔ قلندرانہ... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑