(Bal-e-Jibril-106) (کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق) Kabhi Tanhai-e-Koh-o-Daman Ishq

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی سوز و سرور و انجمن عشق کبھی سرمایہ محراب و منبر کبھی مولا علی خیبر شکن عشق! از- علامہ محمد اقبال ؒ (کبھی پہاڑ کی تنہائی اور وادی میں عشق) (کبھی غم و خوشی اور مجلس میں عشق) (کبھی مومن کا قیمتی... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-053) (خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے) Khirad Mandon Se Kya Poochun Ke Meri Ibtada Kya Hai

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گرہوں یہی سوز نفس ہے، اور میری کیمیا کیا ہے! نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے اگر ہوتا وہ *مجذوب فرنگی اس زمانے میں تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا ہے نواے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے! علامہ محمد اقبال ؒ

(Bal-e-Jibril-165) (پنجاب کے پیرزادوں سے) Punjab Ke Peerzadon Se

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے جس کے نفس گرم سے ہے گرمی احرار وہ ہند میں سرمایہء ملت کا نگہباں اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار کی عرض یہ میں نے کہ عطا فقر ہو مجھ کو آنکھیں مری بینا ہیں، و لیکن نہیں بیدار! آئی یہ صدا سلسلہء فقر ہوا بند ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار عارف کا ٹھکانا نہیں وہ خطہ کہ جس میں پیدا کلہ فقر سے ہو طرئہ دستار باقی کلہ فقر سے تھا ولولہء حق طروں نے چڑھایا نشہء 'خدمت سرکار

(Bal-e-Jibril-128) (طارق کی دعا) Tariq Ki Dua

طارق کی دعا اندلس کے ميدان جنگ ميں یہ غازی، یہ تیرے پر اسرار بندے جنھیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی TARIQ’S PRAYER: In the Battlefield of Andalusia. These warriors, victorious, these worshippers of Thine, whom Thou hast granted the will to win power in Thy name. دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑