(Bang-e-Dra-169) (کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں) Kabhi Ae Haqiqat-e-Muntazir Nazar Aa Libas-e-Majaaz Mein

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں،نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں از- علامہ محمد اقبال ؒ حوالہ: بانگِ درا، غزلیات

(Bang-e-Dra-163) (طلوع اسلام) Tulu-e-Islam

یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے
The history of the Muslim nation reveals the secret that you are the protector of the nations of Asia.
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
Learn again the lesson of Truth, Justice, and Bravery! You are to be entrusted with the world’s leadership!
یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی
This alone is the creation’s objective; this alone is Islam’s secret that there should be universal brotherhood, abundant love!
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
Breaking the idols of race and colour merge into the millat; there should be neither Turanian, nor Iranian, nor Afghanian!

Blog at WordPress.com.

Up ↑